شعر Read in Roman Urdu & English طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں تصحیح بتائیں → پچھلاشام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس اگلا ←کم سے کم موت سے ایسی مجھے امید نہیں فراق گورکھپوری کا مزید کلامتمام کلام اب تو ان کی یاد بھی آتی نہیںپورا شعر پڑھیں رات بھی نیند بھی کہانی بھیپورا شعر پڑھیں تری نگاہ سہارا نہ دے تو بات ہے اورپورا شعر پڑھیں