شعر Read in Roman Urdu & English نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا تصحیح بتائیں → پچھلامیں نہ جگنو ہوں، دیا ہوں نہ کوئی تارا ہوں راحت اندوری کا مزید کلامتمام کلام میں نہ جگنو ہوں، دیا ہوں نہ کوئی تارا ہوںپورا شعر پڑھیں جہالتوں کے اندھیرے مٹا کے لوٹ آیاپورا شعر پڑھیں گھر کے باہر ڈھونڈھتا رہتا ہوں دنیاپورا شعر پڑھیں