شعر Read in Roman Urdu & English مقصد زیست غم عشق ہے صحرا ہو کہ شہر بیٹھ جائیں گے جہاں چاہو بٹھا دو ہم کو تصحیح بتائیں → پچھلامیں حیراں ہوں کہ کیوں اس سے ہوئی تھی دوستی اپنی اگلا ←کس کس کی زباں روکنے جاؤں تری خاطر احسان دانش کا مزید کلامتمام کلام ضبط بھی صبر بھی امکان میں سب کچھ ہے مگرپورا شعر پڑھیں لوگ یوں دیکھ کے ہنس دیتے ہیںپورا شعر پڑھیں کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پرپورا شعر پڑھیں