-
کوئی نئی چوٹ پِھر سے کھاؤ! اداس لوگو کہا تھا کِس نے، کہ مسکراؤ! اُداس لوگو
-
گُزر رہی ہیں گلی سے، پھر ماتمی ہوائیں کِواڑ کھولو ، دئیے بُجھاؤ! اُداس لوگو
-
جو رات مقتل میں بال کھولے اُتر رہی تھی وہ رات کیسی رہی ، سناؤ! اُداس لوگو
-
کہاں تلک، بام و در چراغاں کیے رکھو گے بِچھڑنے والوں کو، بھول جاؤ! اُداس لوگو
-
اُجاڑ جنگل ، ڈری فضا، ہانپتی ہوائیں یہیں کہیں بستیاں بساؤ! اُداس لوگو
-
یہ کِس نے سہمی ہوئی فضا میں ہمیں پکارا یہ کِس نے آواز دی، کہ آؤ! اُداس لوگو
-
یہ جاں گنوانے کی رُت یونہی رائیگاں نہ جائے سرِ سناں، کوئی سر سجاؤ! اُداس لوگو
-
اُسی کی باتوں سے ہی طبیعت سنبھل سکے گی کہیں سے محسن کو ڈھونڈ لاؤ! اُداس لوگو



