شعر Read in Roman Urdu & English ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم تصحیح بتائیں → پچھلااب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا اگلا ←دل مضطر سے پوچھ اے رونق بزم شاد عظیم آبادی کا مزید کلامتمام کلام ترا آستاں جو نہ مل سکا تری رہ گزر کی زمیں سہیپورا شعر پڑھیں خموشی سے مصیبت اور بھی سنگین ہوتی ہےپورا شعر پڑھیں جیسے مری نگاہ نے دیکھا نہ ہو کبھیپورا شعر پڑھیں