شعر Read in Roman Urdu & English اس گلستاں میں بہت کلیاں مجھے تڑپا گئیں کیوں لگی تھیں شاخ میں کیوں بے کھلے مرجھا گئیں تصحیح بتائیں → پچھلافلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں اگلا ←آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت اکبر الہ آبادی کا مزید کلامتمام کلام ہم کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئےپورا شعر پڑھیں کچھ طرز ستم بھی ہے کچھ انداز وفا بھیپورا شعر پڑھیں یہ دلبری یہ ناز یہ انداز یہ جمالپورا شعر پڑھیں