شعر Read in Roman Urdu & English ہر چند بگولہ مضطر ہے اک جوش تو اس کے اندر ہے اک وجد تو ہے اک رقص تو ہے بے چین سہی برباد سہی تصحیح بتائیں → پچھلاجو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پر اگلا ←سدھاریں شیخ کعبہ کو ہم انگلستان دیکھیں گے اکبر الہ آبادی کا مزید کلامتمام کلام ہم کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئےپورا شعر پڑھیں کچھ طرز ستم بھی ہے کچھ انداز وفا بھیپورا شعر پڑھیں یہ دلبری یہ ناز یہ انداز یہ جمالپورا شعر پڑھیں