شعر Read in Roman Urdu & English دِل سے جو بات نکلتی ہے ، اثر رکھتی ہے پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے ارسال کنندہ rameez تصحیح بتائیں → پچھلاآنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں اگلا ←کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں علامہ اقبال کا مزید کلامتمام کلام ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوںپورا شعر پڑھیں مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میںپورا شعر پڑھیں نہ پوچھو مجھ سے لذتِ خانماں برباد رہنے کیپورا شعر پڑھیں