شعر Read in Roman Urdu & English کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں تصحیح بتائیں → پچھلادِل سے جو بات نکلتی ہے ، اثر رکھتی ہے اگلا ←ڈھُونڈتا پھرتا ہوں اے اقبالؔ اپنے آپ کو علامہ اقبال کا مزید کلامتمام کلام ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوںپورا شعر پڑھیں مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میںپورا شعر پڑھیں نہ پوچھو مجھ سے لذتِ خانماں برباد رہنے کیپورا شعر پڑھیں