شعر Read in Roman Urdu & English کالج کے سب بچے چپ ہیں کاغذ کی اک ناؤ لیے چاروں طرف دریا کی صورت پھیلی ہوئی بیکاری ہے تصحیح بتائیں → پچھلادوستی جب کسی سے کی جائے اگلا ←گھر سے یہ سوچ کہ نکلا ہوں کہ مر جانا ہے راحت اندوری کا مزید کلامتمام کلام نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گاپورا شعر پڑھیں میں نہ جگنو ہوں، دیا ہوں نہ کوئی تارا ہوںپورا شعر پڑھیں جہالتوں کے اندھیرے مٹا کے لوٹ آیاپورا شعر پڑھیں