شعر Read in Roman Urdu & English بہتا آنسو ایک جھلک میں کتنے روپ دکھائے گا آنکھ سے ہو کر گال بھگو کر مٹی میں مل جائے گا تصحیح بتائیں → پچھلابلا کی چمک اس کے چہرہ پہ تھی اگلا ←چپ کہیں اور لیے پھرتی تھی باتیں کہیں اور احمد مشتاق کا مزید کلامتمام کلام اس معرکے میں عشق بچارا کرے گا کیاپورا شعر پڑھیں وہ وقت بھی آتا ہے جب آنکھوں میں ہماریپورا شعر پڑھیں خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکنپورا شعر پڑھیں