شعر Read in Roman Urdu & English نفی تم ہو نہیں سکتے ، جمع سے تم کو نفرت ہے تقسیم تم کو کرتے ہیں تو ضرب دِل پر لگتی ہے تصحیح بتائیں → پچھلاہر بات جانتے ہوئے دل مانتا نہ تھا اگلا ←یہ مزہ تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتی مزید دل شاعریسب دیکھیں دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیںپورا کلام پڑھیںفیض احمد فیض اسے خبر نہیں شاید، کوئی جا کے یہ بتائے اس کوپورا شعر پڑھیں نام تیرا جو گنگنانا ہےپورا شعر پڑھیں