شعر Read in Roman Urdu & English ورق ورق پہ تیری عبارت ، تیرا فسانہ ، تیری حکایت کتابِ ہستی جہاں سے کھولی ، تیری محبت کا باب نکلا تصحیح بتائیں → پچھلامقصد زیست غم عشق ہے صحرا ہو کہ شہر اگلا ←عشق تری انتہا عشق مری انتہا مزید عشق شاعریسب دیکھیں ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےپوری غزل پڑھیںمرزا غالب روز اسکو سوچنا یاد کرنا اور خیال میں لاناپورا شعر پڑھیں ہاں عشق ہے مجھ کو تمہاری ذات سےپورا شعر پڑھیں