شعر Read in Roman Urdu & English مدت کے بعد اس نے جو کی لطف کی نگاہ جی خوش تو ہو گیا مگر آنسو نکل پڑے تصحیح بتائیں اگلا ←بہار آئے تو میرا سلام کہہ دینا کیفی اعظمی کا مزید کلامتمام کلام کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہےپورا کلام پڑھیں شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگاپوری نظم پڑھیں جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیںپورا شعر پڑھیں