شعر Read in Roman Urdu & English کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آئے شاید آئینہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں تصحیح بتائیں → پچھلاملبوس خوش نما ہیں مگر جسم کھوکھلے اگلا ←لوگ دیتے رہے کیا کیا نہ دلاسے مجھ کو شکیب جلالی کا مزید کلامتمام کلام ایک اپنا دیا جلانے کوپورا شعر پڑھیں رہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہواپورا شعر پڑھیں یوں تو سارا چمن ہمارا ہےپورا شعر پڑھیں