شعر Read in Roman Urdu & English عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر تصحیح بتائیں → پچھلابتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نو امیدی اگلا ←ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے علامہ اقبال کا مزید کلامتمام کلام ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوںپورا شعر پڑھیں مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میںپورا شعر پڑھیں نہ پوچھو مجھ سے لذتِ خانماں برباد رہنے کیپورا شعر پڑھیں