شعر Read in Roman Urdu & English نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھا ہوں اک ایسی راہ پہ جو تیری رہ گزر بھی نہیں تصحیح بتائیں → پچھلاشام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی اگلا ←دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے فیض احمد فیض کا مزید کلامتمام کلام دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیںپورا کلام پڑھیں اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دنپورا شعر پڑھیں ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گےپورا شعر پڑھیں