شعر Read in Roman Urdu & English ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں تصحیح بتائیں → پچھلااب اپنی حقیقت بھی ساغرؔ بے ربط کہانی لگتی ہے اگلا ←یہ کناروں سے کھیلنے والے ساغر صدیقی کا مزید کلامتمام کلام یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیںپوری غزل پڑھیں مسکراؤ بہار کے دن ہیںپوری غزل پڑھیں رنگ اڑنے لگا ہے پھولوں کاپورا شعر پڑھیں