شعر Read in Roman Urdu & English اب اپنی حقیقت بھی ساغرؔ بے ربط کہانی لگتی ہے دنیا کی حقیقت کیا کہیے کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے تصحیح بتائیں → پچھلامیں نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو اگلا ←ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں ساغر صدیقی کا مزید کلامتمام کلام یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیںپوری غزل پڑھیں مسکراؤ بہار کے دن ہیںپوری غزل پڑھیں رنگ اڑنے لگا ہے پھولوں کاپورا شعر پڑھیں