شعر Read in Roman Urdu & English گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا مرا اور اس کا رابطہ تو ہاتھ اور دعا کا تھا تصحیح بتائیں → پچھلاایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا اگلا ←یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اس سے مگر پروین شاکر کا مزید کلامتمام کلام تمام لوگ اکیلے، کوئے رہبر ہی نہ تھاپوری غزل پڑھیں میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گیپورا شعر پڑھیں کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھےپورا شعر پڑھیں