شعر Read in Roman Urdu & English کس لیے محسن کسی بے مہر کو اپنا کہوں دل کے شیشے کو کسی پتّھر سے کیوں ٹکراؤں میں تصحیح بتائیں → پچھلاعکس و آئینہ میں اب ربط ہو کیا تیرے بعد اگلا ←یہاں مزدور کو مرنے کی جلدی یوں بھی ہے محسن محسن نقوی کا مزید کلامتمام کلام ٹھٹھرتی ہوئی شب سیاح اور وہ بھی طویل ترپورا شعر پڑھیں کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھےپورا شعر پڑھیں ہجوم شہر سے ہٹ کر، حدود شہر کے بعدپوری غزل پڑھیں