شعر Read in Roman Urdu & English چاند بھی نکلا ستارے بھی برابر نکلے مجھ سے اچھے تو شب غم کے مقدر نکلے تصحیح بتائیں → پچھلاچپ کہیں اور لیے پھرتی تھی باتیں کہیں اور اگلا ←کیسے آ سکتی ہے ایسی دل نشیں دنیا کو موت احمد مشتاق کا مزید کلامتمام کلام اس معرکے میں عشق بچارا کرے گا کیاپورا شعر پڑھیں وہ وقت بھی آتا ہے جب آنکھوں میں ہماریپورا شعر پڑھیں خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکنپورا شعر پڑھیں