شعر Read in Roman Urdu & English آج تو بے سبب اداس ہے جی عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی تصحیح بتائیں → پچھلاجدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے اگلا ←اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود ناصر کاظمی کا مزید کلامتمام کلام چھپ جاتی ہیں آئینہ دکھا کر تری یادیںپورا کلام پڑھیں اپنی دھن میں رہتا ہوںپورا شعر پڑھیں یاد آئی وہ پہلی بارشپورا شعر پڑھیں