شعر Read in Roman Urdu & English اب جو لہر ہے پل بھر بعد نہیں ہوگی یعنی اک دریا میں دوسری بار اترا نہیں جا سکتا تصحیح بتائیں → پچھلاتجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتا نہیں اگلا ←یاد کا زخم بھی ہم تجھ کو نہیں دے سکتے سلیم کوثر کا مزید کلامتمام کلام میں نے جو لکھ دیا وہ خود ہے گواہی اپنیپورا شعر پڑھیں مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگرپورا شعر پڑھیں اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیںپورا شعر پڑھیں