شعر Read in Roman Urdu & English آندھیاں آتی تھیں لیکن کبھی ایسا نہ ہوا خوف کے مارے جدا شاخ سے پتا نہ ہوا تصحیح بتائیں → پچھلاآنکھ کی یہ ایک حسرت تھی کہ بس پوری ہوئی اگلا ←آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیے شہریار کا مزید کلامتمام کلام شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہےپورا شعر پڑھیں پچھلے سفر میں جو کچھ بیتا بیت گیا یارو لیکنپورا شعر پڑھیں نظر جو کوئی بھی تجھ سا حسیں نہیں آتاپورا شعر پڑھیں