شعر Read in Roman Urdu & English موجوں كی تپش کیا ہے فقط زوق طلب ہے پنہاں جو صدف میں ہیں وہ دولت ہے خدا داد تصحیح بتائیں → پچھلامسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے اگلا ←نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے علامہ اقبال کا مزید کلامتمام کلام ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوںپورا شعر پڑھیں مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میںپورا شعر پڑھیں نہ پوچھو مجھ سے لذتِ خانماں برباد رہنے کیپورا شعر پڑھیں