شعر Read in Roman Urdu & English پاس جب تک وہ رہے درد تھما رہتا ہے پھیلتا جاتا ہے پِھر آنکھ كے کاجل کی طرح تصحیح بتائیں → پچھلامیں جب بھی چاہوں اسے چھو كے دیکھ سکتی ہوں اگلا ←اِس شرط پے کھیلوں گی پیا پیار کی بازی پروین شاکر کا مزید کلامتمام کلام تمام لوگ اکیلے، کوئے رہبر ہی نہ تھاپوری غزل پڑھیں میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گیپورا شعر پڑھیں کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھےپورا شعر پڑھیں