شعر Read in Roman Urdu & English میں جب بھی چاہوں اسے چھو كے دیکھ سکتی ہوں مگر وہ شخص کہ لگتا ہے اب بھی خواب ایسا تصحیح بتائیں → پچھلالو میں آنکھیں بند کیے لیتی ہوں اب تم رخصت ہو اگلا ←پاس جب تک وہ رہے درد تھما رہتا ہے پروین شاکر کا مزید کلامتمام کلام تمام لوگ اکیلے، کوئے رہبر ہی نہ تھاپوری غزل پڑھیں میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گیپورا شعر پڑھیں کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھےپورا شعر پڑھیں