شعر Read in Roman Urdu & English کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو تصحیح بتائیں → پچھلاجی بہت چاہتا ہے سچ بولیں اگلا ←کبھی کبھی تو چھلک پڑتی ہیں یوں ہی آنکھیں بشیر بدر کا مزید کلامتمام کلام خدا کی اتنی بڑی کائنات میں میں نےپورا شعر پڑھیں تم مجھے چھوڑ کے جاؤ گے تو مر جاؤں گاپورا شعر پڑھیں ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیںپورا شعر پڑھیں