شعر Read in Roman Urdu & English مجھے دے رہے ہیں تسلیاں وہ ہر ایک تازہ پیام سے کبھی آ کے منظر عام پر کبھی ہٹ کے منظر عام سے تصحیح بتائیں → پچھلاآنکھوں میں نمی سی ہے چپ چپ سے وہ بیٹھے ہیں اگلا ←سب کو ہم بھول گئے جوش جنوں میں لیکن جگر مرادآبادی کا مزید کلامتمام کلام نہ غرض کسی سے نہ واسطہ مجھے کام اپنے ہی کام سےپورا شعر پڑھیں یا وہ تھے خفا ہم سے یا ہم ہیں خفا ان سےپورا شعر پڑھیں تجھے بھول جانا تو ممکن نہیں ہےپورا شعر پڑھیں