شعر Read in Roman Urdu & English اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسن دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر تصحیح بتائیں → پچھلاکہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی اگلا ←کون کہتا ہے نفرتوں میں درد ہے محسن محسن نقوی کا مزید کلامتمام کلام ٹھٹھرتی ہوئی شب سیاح اور وہ بھی طویل ترپورا شعر پڑھیں کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھےپورا شعر پڑھیں ہجوم شہر سے ہٹ کر، حدود شہر کے بعدپوری غزل پڑھیں