-
اقبال تیری قوم کا اقبال کھو گیا ماضی تو سنہرا ہے مگر حال کھو گیا
-
وہ رعب و دبدبہ وہ جلال کھو گیا وہ حسن بے مثال وہ جمال کھو گیا
-
ڈوبے ہیں جوابوں میں مگر سوال کھو گیا اقبال تیری قوم کا اقبال کھو گیا
-
اُڑتے جو فضاؤں میں تھے شاہین نہ رہے باذوق نہ رہے ذہین نہ رہے
-
پاکیزہ گر نہ رہے با دین نہ رہے وہ لال و گلزار وہ مہ جبیں نہ رہے
-
مومن کا وہ انداز باکمال کھو گیا اقبال تیری قوم کا اقبال کھو گیا
ارسال کنندہ Hasham