شعر Read in Roman Urdu & English اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم تصحیح بتائیں → پچھلاتو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا اگلا ←ایک زمانے بعد فراز یہ شعر کہے میں نے احمد فراز کا مزید کلامتمام کلام آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیرپورا شعر پڑھیں جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہوپورا شعر پڑھیں یاد آیا تھا بچھڑنا تیراپورا شعر پڑھیں