شعر Read in Roman Urdu & English عالم میں جس کی دھوم تھی اس شاہکار پر دیمک نے جو لکھے کبھی وہ تبصرے بھی دیکھ تصحیح بتائیں → پچھلاآج بھی شاید کوئی پھولوں کا تحفہ بھیج دے اگلا ←بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا شکیب جلالی کا مزید کلامتمام کلام ایک اپنا دیا جلانے کوپورا شعر پڑھیں رہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہواپورا شعر پڑھیں یوں تو سارا چمن ہمارا ہےپورا شعر پڑھیں