میرے چہرے سے میرا درد نہ پڑھ پاؤ گے وصی
میرے چہرے سے میرا درد نہ پڑھ پاؤ گے وصی
میری عادت ہے ہر بات پہ مسکرا دینا
میرے چہرے سے میرا درد نہ پڑھ پاؤ گے وصی
میری عادت ہے ہر بات پہ مسکرا دینا
جل جاؤ خاموشی سے کڑی دھوپ میں لیکن
اپنوں سے کبھی سایہ دیوار نہ مانگو
یہ ضبط چھوت گیا تو تمہاری یاد آئی
میں تھک كے ٹوٹ گیا تو تمہاری یاد آئی
تمھارے بعد نہ تھا کوئی میرا دِل كے سوا
یہ دِل بھی روٹھ گیا تو تمہاری یاد آئی
بے وجہ نہیں روتا عشق میں کوئی غالب
جسے خود سے بڑھ كے چاہا ہو وہ رلاتا ضرور ہے
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
بہت نزدیک ہو کر بھی وہ اتنا دور ہے مجھ سے
اشارہ ہو نہیں سکتا پکارا جا نہیں سکتا
وہ جذبوں کی تجارت تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا
اسے ہنسنے کی عادت تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا
مجھے وہ دیکھ کر اکثر ، نگاہیں پھیر لیتا تھا
یہ دَر پردہ حقارت تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا
الجھا رہی ہے مجھ کو یہی کشمکش مسلسل محسن
وہ آ بسا ہے مجھ میں یا میں اس میں کھو گیا ہوں