وہ مجھ سے بچھڑ کر اب تک رویا نہیں غالب
وہ مجھ سے بچھڑ کر اب تک رویا نہیں غالب
کوئی تو ہے ہمدرد جو اسے رونے نہیں دیتا
وہ مجھ سے بچھڑ کر اب تک رویا نہیں غالب
کوئی تو ہے ہمدرد جو اسے رونے نہیں دیتا
آواز میں ٹھہراؤ تھا آنکھوں میں نمی تھی
اور کہہ رہا تھا میں نے سب کچھ بھلا دیا
گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بِیاباں میں
كے شاہین كے لیے ذلت ہے کار آشیاں بندی
محبت تو بارش ہے
جسے چھونے کی خواہش میں
ہتھیلیاں گھیلی ہو جاتی ہیں
مگر ہاتھ ہمیشہ خالی ہی رہتے ہیں
میں تجھ کو پانے کی حسرت میں کب تک ذلت اٹھاتا رہوں
کوئی ایسا دے مجھے دھوکہ كہ میری آس ٹوٹ جائے
سنا ہے زندگی امتحاں لیتی ہے فراز
پر یہاں تو امتحانوں نے زندگی لے لی
بہت درد چھپے ہیں رات كے ہر پہلو میں
اچھا ہو كے کچھ دیر كے لیے نیند آ جائے
بڑا مزہ ہو کہہ محشر میں ہم کریں شکوہ
وہ منتوں سے کہیں چُپ رہو خدا كے لیے