ایک حقیقت سہی فردوس میں حوروں کا وجود
ایک حقیقت سہی فردوس میں حوروں کا وجود
حسنِ انساں سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں
ایک حقیقت سہی فردوس میں حوروں کا وجود
حسنِ انساں سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں
نہ کوئی غم خزاں کا ہے نہ ہے خواہش بہاروں کی
ہمارے ساتھ ہے امجد کسی کی یاد کا موسم
جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزہ ہی نہیں
آج کی رات بھی ممکن ہے نہ سو سکوں محسن
یاد پِھر آئی ہے نیندوں کو اڑانے والی
دل نا امید تو نہیں ، ناكام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام ، مگر شام ہی تو ہے
نہ شاعر ہوں میں نہ شعور عشق مجھ کو فیض
میں تو لکھتا ہوں كے حال دِل بیاں کر سکوں
اپنی گلی میں اپنا ہی گھر ڈھونڈتے ہیں لوگ
امجد یہ کون شہر کا نقشہ بدل گیا
اس درد کی دنیا سے گزر کیوں نہیں جاتے
یہ لوگ بھی کیا لوگ ہیں مر کیوں نہیں جاتے
ہے کون زمانے میں مرا پوچھنے والا
ناداں ہیں جو کہتے ہیں کہ گھر کیوں نہیں جاتے
شعلے ہیں تو کیوں ان کو بھڑکتے نہیں دیکھا
ہیں خاک تو راہوں میں بکھر کیوں نہیں جاتے
آنسو بھی ہیں آنکھوں میں دعائیں بھی ہیں لب پر
بگڑے ہوئے حالات سنور کیوں نہیں جاتے